اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق سکیورٹی فورسز پولیٹیکل انتظامیہ اور قبائلی عمائدین کا گرینڈ جرگہ خیبر ایجنسی میں ہوا۔ خیبر ایجنسی میں کالعدم امر بالمعروف تنظیم ختم ہو گئی، باڑہ قمبر خیل میں ۱۲سال بعد امن قائم ہو گیا، امر بالمعروف کا جھنڈا اتار کر پاکستان کا جھنڈا لہرا دیا گیا۔ علاقے میں ۷ سال بعد ۱۵۰ عمائدین پر مشتمل امن سنٹر قائم کر دیا گیا، امن سنٹر کے قیام کا فیصلہ جرگہ میں کیا گیا۔ جرگے نے بھاری ہتھیار سکیورٹی فورسز کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا، اسلحہ کی نمائش پر بھی پابندی لگا دی گئی۔ قتل کرنے پر دو کروڑ روپے جرمانہ اور گھر کو آگ لگا دی جائے گی۔ باڑہ تحصیل میں پاکستانی پرچم کے سوا کوئی جھنڈا نہیں لہرایا جائے گا۔ جرگے کے فیصلے کی خلاف ورزی پر ۵۰ لاکھ جرمانہ کیا جائے گا۔مزید برآں خیبر ایجنسی کے نامہ نگار کے مطابق پولیٹیکل انتظامیہ اور باڑہ عمائدین کے درمیان گرینڈ جرگہ ہوا جس میں اہم فیصلے کئے گئے۔ قمبر خیل امن شرشتہ قائم کر دیا گیا۔ نامدار تنظیم ختم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ پاکستانی جھنڈے کے علاوہ ہر قسم کے جھنڈے لہرانے پر پابندی ہوگی۔ ذاتی دشمنیوں پر بھی تین سال تک پابندی لگائی گئی ہے۔ قتل پر ۲کروڑ جبکہ جرگہ کی خلاف ورزی کرنے والے پر ۵۰لاکھ روپے جرمانہ ہو گا۔ باڑہ میں ۹سال بعد تعلیمی ادارے کل ۱۲جنوری سے کھولے جائیں گے۔ مزید براں آن لائن کے مطابق مہمند ایجنسی کی پولیٹیکل انتظامیہ نے گذشتہ روز تحصیل صافی اور تحصیل حلیمزئی کے قبائلی عمائدین کا ایک اہم جرگہ ہیڈ کوارٹر غلنئی میں طلب کیا گیا۔ جسمیں اے پی اے اپر مہمند ذیشان عبداللہ، تحصیلدار صافی معراج خان ، تحصیلدار حلیمزئی محمود شاہ اور تمام قبیلوں کے نمائندہ مشران نے شرکت کی۔ انتظامیہ نے عمائدین پر زور دیا کہ وہ اپنی علاقائی و اجتماعی ذمہ داری کے تحت اپنے علاقوں میں سرکاری عمارات بالخصوص سرکاری سکولوں کی حفاظت کیلئے دن رات ڈیوٹیاں یقینی بنائے۔ چوکیداری سسٹم کو فعال کر کے حکومت اور قومی مشران کو کسی مشکوک سرگرمی کی بروقت اطلاع دیا کریں۔ عمائدین نے اس موقع پر ہر ممکن تعاﺅن کا یقین دلایا۔
.......
/169